گرمی میں بیڈ روم ٹھنڈا اور پرسکون رکھنا
دن بھر کی تپش اور کام کے بعد جب ہم تھکے ہارے اپنے کمرے میں قدم رکھتے ہیں، تو بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح سکون کی نیند آ جائے۔ لیکن جیسے ہی بستر پر لیٹتے ہیں، گرمی اور حبس کا احساس سکون چھین لیتا ہے۔ بیڈ روم کا درجہ حرارت اگر زیادہ ہو، تو بار بار آنکھ کھلتی ہے اور صبح اٹھ کر بھی تھکن کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
میں کوئی ڈاکٹر یا ہوم ڈیکور کی ماہر نہیں ہوں، لیکن ایک عام عورت کے طور پر میں نے اپنے گھر میں کچھ ایسی سادہ عادات اپنائی ہیں جنہوں نے میری گرمیوں کی رات کو کافی حد تک آرام دہ بنا دیا ہے۔ آئیے مل کر کچھ ایسے روزمرہ طریقے دیکھتے ہیں جن سے ہم اپنے کمرے کو بغیر کسی بھاری خرچے کے ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں۔
ہوا کا گزر اور پنکھے کی سمت کا صحیح استعمال
کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سب سے ضروری چیز ہوا کا گزر ہے۔ اگر کمرے میں ہوا بند ہو جائے تو حبس بڑھ جاتا ہے۔ شام کے وقت جب باہر تھوڑی ٹھنڈک ہونے لگے، تو کمرے کی کھڑکیاں کھول دیں تاکہ باہر کی تازہ ہوا اندر آ سکے۔
ایک چھوٹی سی ٹرک جو میں خود استعمال کرتی ہوں، وہ ہے پنکھے کی سمت اور اس کی پوزیشن۔ اگر آپ کے کمرے میں پیڈسٹل فین 'کھڑا پنکھا' ہے، تو اسے کھڑکی کی طرف رخ کر کے چلائیں تاکہ وہ کمرے کی گرم ہوا کو باہر پھینک سکے۔ اس کے علاوہ، چھت والے پنکھے کو گرمیوں میں کاؤنٹر کلاک وائز 'الٹی سمت' چلنا چاہیے تاکہ وہ ہوا کو نیچے کی طرف دھکیلے اور آپ کو پسینے سے بچاؤ مل سکے۔

آرام دہ بستر اور باریک چادریں
گرمیوں میں ہمارے سونے کا ماحول بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بستر پر بچھائی جانے والی چادریں اگر موٹی یا مصنوعی دھاگے سے بنی ہوں، تو وہ جسم کی گرمی کو جذب کر لیتی ہیں جس سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔
- ہلکے رنگ اور باریک چادریں: ہمیشہ سوتی 'کاٹن' کی باریک چادریں استعمال کریں۔ ہلکے رنگ جیسے سفید، ہلکا نیلا یا ہلکا گلابی آنکھوں کو بھی سکون دیتے ہیں اور کمرے کو ٹھنڈا محسوس کرواتے ہیں۔
- تکیے کا انتخاب: تکیے کے غلاف بھی سوتی ہونے چاہئیں۔ اگر ممکن ہو تو رات کو سونے سے کچھ دیر پہلے تکیے کو الٹ دیں تاکہ ٹھنڈی سائیڈ اوپر آ جائے۔
شام کی ٹھنڈک اور پردوں کا استعمال
دن کے وقت سورج کی تیز روشنی کمرے کی دیواروں اور فرنیچر کو گرم کر دیتی ہے۔ اس گرمی کا حل یہ ہے کہ دن بھر کمرے میں پردوں کا استعمال کیا جائے۔
موٹے اور گہرے رنگ کے پردے دن کی دھوپ کو اندر آنے سے روکتے ہیں۔ جیسے ہی شام ہو، آپ ان پردوں کو ہٹا کر کھڑکیاں کھول سکتے ہیں تاکہ شام کی ٹھنڈک کمرے میں داخل ہو سکے۔ ایک اور پرانا لیکن کارآمد طریقہ یہ ہے کہ شام کے وقت کھڑکی کے پاس یا کمرے کے فرش پر ہلکا سا پانی کا چھڑکاؤ کر دیا جائے۔ اس سے ہوا میں نمی آتی ہے اور کمرے کی ہوا فوری طور پر ٹھنڈی محسوس ہونے لگتی ہے۔
دھیمی روشنی اور الیکٹرانک اشیاء کا کم استعمال
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے کمرے میں موجود بلب اور دیگر الیکٹرانک چیزیں بھی گرمی پیدا کرتی ہیں؟ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے کمرے کی بڑی لائٹس بند کر دیں اور دھیمی روشنی کا استعمال کریں۔
موبائل فون، لیپ ٹاپ اور چارجر بھی گرمی خارج کرتے ہیں۔ انہیں اپنے بستر سے دور رکھیں تاکہ بیڈ روم کا ماحول پرسکون رہے۔ یہ چھوٹی سی عادت نہ صرف کمرے کا درجہ حرارت بہتر کرتی ہے بلکہ دماغ کو بھی سکون بخش نیند کے لیے تیار کرتی ہے۔
ہم سب کی زندگی مصروف ہے اور تھکن سے بھری ہوتی ہے۔ ایسے میں ایک اچھی اور ٹھنڈی نیند ہمارا حق ہے۔ ان میں سے جو طریقہ آپ کو آسان لگے، اسے آج ہی سے آزما کر دیکھیں۔ یاد رکھیں، ہر تبدیلی آہستہ آہستہ اثر دکھاتی ہے، اس لیے خود پر دباؤ ڈالے بغیر چھوٹی شروعات کریں۔


